8 فروری 2014 - 20:30
’’ گولڈن سکواڈرن‘‘ کے شیعہ کمانڈر نماز ظہر کو جنت البقیع میں ادا کرنے کے منتظر+تصاویر

انہوں نے سوشل نٹ ورک فیسبوک پر یہ پیغام جاری کرتے ہوئے تاکید کی تھی کہ اگر سعودی عرب ہمارے مقدسات کربلا اور نجف کی طرف نگاہ اٹھا کر بھی دیکھے یا عراق کی ایک بالشت جگہ پر قبضہ کرنے کی سوچے تو میں قسم کھا کر کہتا ہوں کہ ہماری فوج نماز ظہر جنت البقیع میں ادا کرے گی۔

اہلبیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ عراق کا سنی نشین صوبہ الانبار گزشتہ ایک مہینے سے بدامنی کا شکار ہے داعش نامی دھشتگرد ٹولے اور عراقی فوج کے درمیان مسلسل اس صوبہ میں جھڑپیں جاری ہیں۔داعش نے اس صوبے کے دو مرکزی شہروں کو اپنے قبضے میں لے لیا تھا جو اس بات کا باعث بنا کہ عراق کے وزیر اعظم نوری مالکی نے ۲۱ دسمبر ۲۰۱۳کو عراقی فوج کو یہ حکم دیا کہ وہ ان شہروں سے دھشتگردوں کے تسلط کو ختم کریں۔عراقی فوج کے ایک کمانڈر جنہیں وزیر اعظم نے دھشتگردوں کے ساتھ مقابلے کرنے کی ذمہ داری سونپ تھی فاضل جمیل البرواری ہیں جو ’’ گولڈن سکواڈرن‘‘ کے کمانڈر ہیں۔

فاضل جمیل البرواری صوبہ کردستان کے سرحدی علاقے دھوک کے رہنے والے ہیں اور قبیلہ البرواری سے ان کا تعلق ہے۔۲۰۰۳ میں انہوں نے گولڈن سکواڈرن نامی لشکر تیار کیا اور اس کی فرمانروائی اپنے ہاتھ میں لی۔گولڈن سکواڈرن نے ۲۰۰۴ میں شہر الفلوجہ میں ہونے والی کاروائیوں میں حصہ لیا اور کامیابی حاصل کرنے کے بعد اسی سال سامراء  اور حرم مطھر امامین عسکریین (ع) کو دھشتگردوں سے پاک کرنے میں عراقی فوج کا ساتھ دیا۔فاضل جمیل البراوری نے ۲۰۰۷ میں عراق کی اسپیشل فورس کے میجر جنرل کا عہدہ سنبھالا اور اس ملک کے شہر دیالی، موصل، بصرہ اور نجف کو پاکسازی کرنے کے عنوان سے فوجی آپریشن کیا۔

فاضل البرواری کی سربراہی میں عراقی فوج اور دھشتگرد ٹولے داعش کے درمیان جھڑپیں ابھی بھی صوبہ الانبار میں جاری ہیں اور اس کمانڈر کے بقول اس صوبہ کے ’’ البوفراج، الحمیرہ، الصوفیہ ، الصباط، الملعب، الطاش، الزنکورہ، اور اعتصاب کے علاقوں کو دھشتگردوں کے ناپاک وجود سے پاک کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے اس بات کی یقین دھانی کراتے ہوئے کہا کہ اگلے کچھ دنوں میں نئے آپریشن کے دوران صوبہ الانبار سے داعش کا صفایا کر دیا جائے گا۔

’’ گولڈن سکواڈرن‘‘ کے میجر جنرل نے اپنے ایک بیان کے اندر اس بات پر تاکید کی ہے کہ وہ نئے میزائلوں کے ساتھ ایک مرتبہ پھر وارد جنگ ہوں گے اور داعش کے گندے عناصر کو اس صوبے سے نابود کر دیں گے۔’’ گولڈن سکواڈرن‘‘ کے سربراہ نے گزشتہ روز صوبہ الانبار کے علاقے البوبالی کی تصاویر شائع کر کے رپورٹ شائع کی کہ انہوں نے اس علاقے کو مکمل طور پر تکفیریوں سے پاک کر دیا ہے اور انہوں نے تاکید کی کہ ہمارا یہ تصاویر شائع کرنے کا مقصد ان لوگوں کو یقین دہانی کرانا ہے جو ہمیں بزدل اور ڈرپوک سمجھتے ہیں۔البرواری نے کہا کہ ہم پاکسازی کی کاروائیوں کے بعد اپنے چار شہیدوں کے نعشوں کی تلاش میں ہیں جو تکفیریوں کے  ہاتھوں اغوا ہو گئے تھے اور انہیں سزائے موت دے دی گئی تھی۔’’ گولڈن سکواڈرن‘‘ کے کمانڈر نے مزید تاکید کی کہ وہ اپنے چار سپاہیوں کے بدلے میں داعش کے چار ہزار عناصر کو ہلاک کریں گے۔البرواری نے مزید تاکید کی کہ جس اسلحہ سے وہ دھشتگردوں کا مقابلہ کر رہے ہیں وہ اسرائیل کا بنا ہوا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ۲۰۰۶ میں دھشتگردوں سے جو اسلحہ ان کے ہاتھ لگا وہ اسرائیل کا جدید ترین اسلحہ تھا۔

قابل ذکر ہے کہ فاضل البرواری نے چند روز قبل سعودی عرب کی دھمکیوں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ اگر وہ عراق پر حملہ کرنے کی فکر بھی کرے تو عراقی فوج نماز ظہر جنت البقیع میں ادا کرے گی۔انہوں نے سوشل نٹ ورک فیسبوک پر یہ پیغام جاری کرتے ہوئے تاکید کی تھی کہ اگر سعودی عرب ہمارے مقدسات کربلا اور نجف کی طرف نگاہ اٹھا کر بھی دیکھے یا عراق کی ایک بالشت جگہ پر قبضہ کرنے کی سوچے تو میں قسم کھا کر کہتا ہوں کہ ہماری فوج نماز ظہر جنت البقیع میں ادا کرے گی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۲۴۲